موسم خزاں تک امریکہ بڑی حد تک کرونا وائرس پر قابو پا لے گا، ڈاکٹر فاؤچی
وبائی امراض کے ماہر معروف امریکی ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اگلے سال 2021 کے موسم خزاں تک کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر بڑی حد تک قابو پا لے گا اور روزمرہ زندگی کے معمولات بہت حد تک نارمل ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی امریکی عوام میں عالمی وبا کے خلاف قوت مدافعت بڑھنے کے سبب حاصل ہو گی جس کی ایک بڑی وجہ ویکسین کی فراہمی ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی نے ان خیالات کا اظہار ریاست کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم کے ساتھ ایک گفتگو کے دوران کیا۔ یہ گفتگو اس بارے میں تھی کہ برطانیہ میں پھیلنے والے کرونا وائرس کی نئی قسم کے کچھ مریضوں کی امریکہ میں نشاندہی ہوئی ہے جس کا پہلا کیس کولوراڈو میں سامنے آیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ کرونا کی نئی قسم بی ون ون سیون کے ایک اور مریض کی تصدیق کیلی فورنیا کے جنوبی حصے میں ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی۔
جب کہ محکمہ صحت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سین ڈیاگو کاؤنٹی کے جس شخص میں کرونا وائرس کی نئی قسم کی شناخت ہوئی ہے، اس نے حالیہ عرصے میں کوئی سفر نہیں کیا، جس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وائرس کہیں باہر سے آیا ہے۔
پاکستان میں مزید 71 اموات، 2400 سے زائد نئے کیسز رپورٹ
چین میں پہلی کرونا ویکسین کی منظوری، پاکستان 12 لاکھ خوراکیں خریدے گا
چین نے عوامی سطح پر استعمال کے لیے پہلی کرونا وائرس ویکسین کی منظوری دے دی ہے جو سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والی دوا ساز کمپنی 'سائنو فارم' نے تیار کی ہے۔
حکومتِ پاکستان نے بھی مذکورہ ویکسین کی 12 لاکھ خوراکیں خریدنے کا آرڈر دے دیا ہے۔
پاکستان کے وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے جمعرات کو ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ کابینہ کمیٹی نے ابتدائی طور پر 'سائنو فارم' سے ویکسین کی 12 لاکھ خوراکیں حاصل کرنے کی منظوری دی ہے جو 2021 کی پہلی سہ ماہی تک طبی ورکرز اور دیگر فرنٹ لائن کارکنوں کو ترجیحاً لگائی جائے گی۔
فواد حسین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نجی شعبہ اگر کوئی اور بین الاقوامی طور پر منظور شدہ ویکسین درآمد کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کی بھی اجازت ہو گی۔
پاکستان نے رواں ماہ کے اوائل میں کرونا ویکسین کی خریداری کے لیے 15 کروڑ ڈالرز مختص کیے تھے۔
عالمی معیشت کی بحالی کیلئے آئندہ سال ویکسین کا وسیع استعمال ضروری ہو گا
کرونا بحران نے 2020 کے آغاز سے ہی دنیا کو سفری بندشوں اور محدود اقتصادی سرگرمیوں کی طرف دھکیلنا شروع کردیا تھا۔
لیکن موسم بہار میں وائرس کے تیزی سے پھیلنےکے بعد عالمی وباکی صورت اختیار کر لینےکے اس کثیرالجہتی بحران نےاقتصادی ترقی کے پہیے کی رفتار کو مزید سست حتی کہ کئی مقامات پر جامد کر دیا۔
یوں دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پزیر مما لک کو بلا تفریق مشترکہ معاشی اور اقتصادی نقصانات کی شکل میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ اور دنیا کی عظیم ترین معیشتوں سمیت بہت سے ممالک میں ترقی کی شرح منفی رہنے کی پیشگوئی کی گئی۔
عالمی معیشت کو سال بھر کی پابندیوں اور اقتصادی سست روی سے ہونے والے نقصان کا ابھی حتمی تخمینہ تو سامنے نہیں آیا لیکن اس ہفتے جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مختلف عالمی اداروں کی جانب سے نقصان کے بار ے میں کچھ اعدادو شمار پیش کیے ہیں۔