دسمبر میں 28 لاکھ امریکیوں کو ویکسین دی گئی، ہدف دو کروڑ تھا
دسمبر کی آخری تاریخ تک امریکہ میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے تقریباً 28 لاکھ لوگوں کو ویکسین دی جا سکی تھی، جب کہ حکومت نے دسمبر کے دوران دو کروڑ افراد کو ویکسین دینے کا ٹارگٹ مقرر کیا تھا۔
نرسنگ ہوم میں رہائش پذیر افراد کے پاس ویکسین پہنچنے کی رفتار ان لوگوں کے مقابلے میں کافی سست رہی، جن کا شمار کرونا وائرس کے خلاف لڑنے والوں کی اولین صف میں کیا جاتا ہے۔
بیماریوں سے احتیاط اور کنٹرول کے ادارے نے بتایا ہے کہ دسمبر کی 30 تاریخ تک تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار ایسے افراد کو ویکسین دی جا چکی تھی جو دائمی بیمار ہیں اور نرسنگ ہوم میں رہ رہے ہیں۔ جب کہ ان کے لیے 22 لاکھ خوراکیں فراہم کی گئی تھیں۔
وفاقی عہدے داروں نے بتایا ہےکہ اب تک امریکی ریاستوں کو فائزر اور ماڈرنا کی ایک کروڑ 40 لاکھ خوراکیں مہیا کی جا چکی ہیں۔ جب کہ دسمبر کے دوران دو کروڑ خوراکوں کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید 82 افراد ہلاک
پاکستان میں کرونا وائرس سے نئے سال کے پہلے دن 82 افراد کی موت ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 82 اموات کے بعد پاکستان میں وبا سے ہونے والی مجموعی اموات کی تعداد 10 ہزار 258 ہو گئی ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں کرونا وبا کے کیسز گزشتہ برس کے آغاز میں سامنے آنا شروع ہوئے تھے۔ جب کہ وبا سے ابتدائی اموات کی تصدیق 18 مارچ میں ہوئی تھی۔ خیبر پختونخوا کے حکام نے 18 مارچ کو مردان اور پشاور میں دو افراد کے وبا سے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی۔
قبل ازیں گلگت بلتستان میں بھی ایک فرد کے وبا سے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں تاہم حکام نے اس کی تردید کی تھی۔
ملک بھر میں مئی کے آخر سے جولائی کے اختتام تک پہلی لہر کے دوران اموات کی شرح بہت زیادہ بڑھ گئی تھی اور 20 جون کو ایک دن میں 153 افراد بھی وبا سے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔
اگست کے آغاز سے اکتوبر کے اختتام تک پاکستان میں وبا سے اموات کی شرح کافی حد تک نیچے آ گئی تھی۔ البتہ نومبر میں دوسری لہر کے آغاز سے ایک بار پھر اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری لہر کے دوران 23 دسمبر کو سب سے زیادہ 111 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔
بھارت: آسٹرا زینیکا کی تیار کردہ کرونا ویکسین کو منظوری ملنے کا امکان
بھارت میں ادویات کی منظوری دینے والا ادارہ 'سی ڈی ایس سی او' جمعے کو 'آسٹرا زینیکا' اور 'آکسفورڈ یونیورسٹی' کی تیار کردہ کرونا ویکسین کی ہنگامی استعمال کی اجازت دے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے ذرائع کے مطابق اس منظوری کے بعد دنیا بھر میں امریکہ کے بعد وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بھارت میں کرونا ویکسین لگائے جانے کا عمل شروع ہو گا۔
خیال رہے کہ برطانیہ اور ارجنٹائن میں پہلے ہی اس ویکسین کی ہنگامی منظوری دی جا چکی ہے۔
ذرائع کا نام صیغہ راض میں رکھنے کی شرط پر کہنا تھا کہ ادارہ مقامی طور پر 'بھارت بائیو ٹیک' کی تیار کردہ کرونا ویکسین کی بھی منظوری دے گا۔
بھارت میں آسٹرا زینیکا کی تیار کردہ ویکسین بنانے والا مقامی ادارہ 'سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا' کرونا ویکسین کی 5 کروڑ خوراکیں تیار کر چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق کرونا ویکسین کی تیار شدہ خوراکوں کی بھارتی ریاستوں تک ترسیل ہفتے سے شروع ہوگی۔
کرونا وائرس کی نئی قسم امریکی ریاست فلوریڈا پہنچ گئی
امریکی ریاست کولوراڈو اور کیلی فورنیا کے بعد کرونا وائرس کی نئی قسم فلوریڈا پہنچ گئی ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کرونا وائرس کی وہی قسم ہے۔ جس کی سب سے پہلے تشخیص برطانیہ میں ہوئی تھی۔
فلوریڈا امریکہ کی تیسری ریاست ہے۔ جس میں ‘کووڈ 19’ کی نئی قسم کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
فلوریڈا کے محکمہ صحت کے مطابق مارٹن کاؤنٹی سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ شخص میں کرونا وائرس کی نئی قسم کی تشخیص ہوئی ہے حالانکہ اس نے بیرون ملک سفر نہیں کیا ۔
دوسری جانب کولوراڈو اورکیلی فورنیا میں بھی کرونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز سامنے آچکے ہیں۔
اس سے قبل بدھ کو کیلی فورنیا کے گورنرگیون نیوسم نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کرونا وائرس کی نئی قسم کا ایک کیس جنوبی کیلی فورنیا میں سامنے آیا ہے۔
قبل ازیں کولوراڈو کے گورنرجیراڈ پولس نے کرونا کی نئی قسم سامنے آنے کااعلان کیا تھا۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ نئی قسم زیادہ مہلک ہے۔ لیکن منظورشدہ ویکسینز انفیکیشن کے مقابلے کے لیے مؤثرثابت ہوں گی۔