پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کا 11 جنوری سے اسکول کھولنے کا اعلان
وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کی جانب سے تعلیمی ادارے 18 جنوری سے مرحلہ وار کھولنے کے اعلان پر پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے کہا ہے کہ حکومت اب بھی تاریخوں میں توسیع کر رہی ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کاشف مرزا نے کہا کہ ملک بھر کے تعلیمی ادارے سردیوں کی چھٹیوں کے بعد 11 جنوری کو کھولنے کی تاریخ دی گئی تھی۔ لیکن اب یکساں نصاب کو رائج کرنے کے لیے حکومت تاریخ میں توسیع کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کا بہت نقصان ہو رہا ہے۔ بچوں کا ایک سال میں بہت نقصان ہو چکا ہے۔ اگر چھ ماہ تک اسکول بند رہیں تو بچوں کا نقصان پانچ سال تک پورا نہیں ہو سکتا۔ یہاں ایک سال ہونے کو آیا ہے اور اسکول بند ہیں۔
کاشف مرزا نے کہا کہ ہم 11 جنوری سے تمام پرائیویٹ اسکول کھول دیں گے کیوں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے 10 ہزار اسکول مستقل بند ہو چکے ہیں اور ہزاروں اساتذہ بے روزگار ہیں۔ اگر ایسے ہی اسکول بند رہے تو مزید 25 ہزار اسکول مستقل بند ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ اسکولز اس وقت حکومت کی ذمہ داری اٹھا رہے ہیں، لاکھوں بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ اسکول کھولیں اور تمام بچوں کو اسکولوں میں لایا جائے۔
پاکستان میں 18 جنوری سے تین مراحل میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ
پاکستان میں 18 جنوری سے تمام تعلیمی ادارے تین مراحل میں کھولے جا رہے ہیں۔
پیر کو وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کی زیرِ صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ہوئی جس میں صوبائی وزرائے تعلیم اور دیگر حکام ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔
اجلاس میں مئی کے آخری ہفتے اور جون کے ابتدائی ایام میں ہونے والے بورڈ امتحانات سے متعلق بھی تبادلۂ خیال کیا گیا جب کہ موسمِ گرما کی چھٹیوں میں کمی پر بھی غور کیا گیا۔
وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود اور وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ 18 جنوری سے نویں، دسویں اور گیارہویں جماعتوں میں تعلیمی سلسلہ بحال ہو گا۔
شفقت محمود کے مطابق 25 جنوری سے پرائمری سے آٹھویں جماعت تک کے تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے جب کہ یکم فروری سے جامعات اور دیگر اعلیٰ تعلیمی ادارے کھل جائیں گے۔
وفاقی وزیرِ تعلیم کا کہنا تھا کہ تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ صوبوں کی مشاورت سے کیا گیا ہے تاہم 14 اور 15 جنوری کو صحت کی صورتِ حال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
اس موقع پر معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ تعلیی ادارے بند ہونے سے کرونا کیسز میں کمی آئی ہے جب کہ کرونا کی دوسری لہر میں کافی حد تک ٹھہراؤ آیا ہے۔
بائیو ببل کی خلاف ورزی: تمام بھارتی کرکٹرز کے کرونا ٹیسٹ منفی
آسٹریلیا میں موجود پانچ بھارتی کرکٹرز نے سالِ نو کے آغاز پر بائیو ببل کی خلاف ورزی کی تھی جس کے بعد پوری ٹیم اور دیگر اسٹاف کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے جو منفی آئے ہیں۔
بھارتی اوپنر روہت شرما، رشب پانت، شبمن گل، پرتھوی شاہ اور نودیپ سیانی نے نئے سال کے جشن پر میلبورن کے ایک ریسٹورینٹ کے اندرونی احاطے میں کھانا کھایا تھا۔
بعدازاں مذکورہ کھلاڑیوں نے ٹریننگ سیشن میں بھی حصہ لیا۔ تاہم پیر کو بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تین جنوری کو ٹیم میں شامل تمام کھلاڑیوں اور سپورٹنگ اسٹاف کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے اور تمام ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔
یاد رہے کہ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان تیسرا ٹیسٹ جمعرات سے شروع ہو گا۔ چار میچز پر مشتمل سیریز میں دونوں ٹیموں نے اب تک ایک ایک میچ میں کامیابی حاصل کی ہے۔
پاکستان میں کرونا سے مزید 39 اموات
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 39 مریض دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد اموات کی کل تعداد 10 ہزار 350 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مزید 1895 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ 1797 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔
پاکستان میں مجموعی طور پر چار لاکھ 88 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں سے چار لاکھ 42 ہزار سے زیادہ افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔ عالمی وبا کا شکار 2242 مریضوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔