رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

20:59 9.1.2021

ایران امریکہ یا برطانیہ سے کرونا ویکسین درآمد نہیں کرے گا: خامنہ ای

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں کرونا کیسز بڑھنے کے باوجود امریکہ اور برطانیہ کو 'ناقابلِ اعتبار' قرار دیتے ہوئے اپنی حکومت پر ان ممالک سے کرونا ویکسین درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کا جمعے کو برطانیہ اور امریکہ کے عزائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ یہ دونوں ملک دیگر ممالک میں کرونا وائرس پھیلانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران قابلِ اعتبار ممالک سے ویکسین حاصل کرے گا۔

ان کی طرف سے ویکسین حاصل کرنے سے متعلق تفصیلات تو فراہم نہیں کی گئیں۔ تاہم چین اور روس دونوں ملک ایران کے اتحادی ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر کا 1980 اور 1990 کی دہائی میں سامنے آنے والے 'بلڈ اسکینڈل' میں فرانس کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ فرانس کی کرونا ویکسین بھی قابل بھروسہ نہیں ہو گی۔

مزید پڑھیے

16:01 9.1.2021

ویکسین کرونا کی نئی اقسام کے خلاف بھی کار آمد

جرمنی کی کمپنی 'بائیو این ٹیک' نے دعویٰ کیا ہے کہ ابتدائی تحقیق کے نتائج کے مطابق ان کی تیار کردہ کرونا ویکسین برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کار آمد ہے۔

امریکی کمپنی 'فائزر' کے اشتراک سے ویکسین تیار کرنے والی کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ ان کی ویکسین لگوانے والوں میں ایسی اینٹی باڈیز بن جاتی ہیں۔ جو کہ کرونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف بھی کام کرتی ہیں۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم کرونا کی ابتدائی قسم کے مقابلے میں 40 سے 70 فی صد زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔

بائیو این ٹیک کا فائزر اور 'یونیورسٹی آف ٹیکساس میڈیکل برانچ' کے ساتھ کی گئی تحقیق کے حوالے سے مزید کہنا ہے کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ سے سامنے آنے والے وائرس ویکسین لگوانے والے افراد کی قوت مدافعت کو متاثر نہیں کر سکتا۔

15:49 9.1.2021

امریکہ: کیلی فورنیا کے اسپتالوں کے باہر ایمبولینسز کی قطاریں

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے جنوبی علاقوں میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے باعث اسپتالوں کے انتہائی نگہداشت وارڈز میں جگہ کم پڑنے لگی ہے اور ایمرجنسی وارڈ کرونا مریضوں سے بھر گئے ہیں۔

کیلی فورنیا کی اورنج کاؤنٹی کے ایک اسپتال میں وبا سے متاثرہ مریضوں کی ایمبولینسوں کو انتہائی نگہداشت وارڈز میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے انتظار کرنا پڑا۔

لاس اینجلس کاؤنٹی میں وبا کے سبب ہر آٹھ منٹ میں ایک ہلاکت رپورٹ کی جا رہی ہے۔ جب کہ دیگر علاقوں میں لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اضافی ریفریجریٹرز کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

مقامی اسپتال سے منسلک ڈاکٹر جم کینی کا کہنا ہے کہ ہر بستر پر مریض موجود ہے۔ جب کہ ہر نرس اور ڈاکٹر کرونا مریض کے علاج میں مصروف ہے۔

ڈاکٹر جم کا مزید کہنا تھا کہ ایک مریض کو داخل ہونے سے پہلے پانچ گھنٹوں تک ایمبولینس میں انتظار کرنا پڑا۔

امریکہ کی سب سے گنجان آباد ریاست کیلی فورنیا سے کرونا وائرس کے سب سے زیادہ لگ بھگ 26 لاکھ مریض رپورٹ کیے گئے ہیں۔ جب کہ امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے مطابق ریاست میں اب تک 29 ہزار سے زائد اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔

15:31 9.1.2021

آسٹریلیا سے بھی وائرس کی نئی قسم کے دو کیس رپورٹ

آسٹریلیا میں وزارتِ صحت کے حکام کا ہفتے کو کہنا تھا کہ وہ کرونا وائرس کی نئی قسم سے متاثرہ ممالک برطانیہ اور جنوبی افریقہ سے آسٹریلیا آنے والے مسافروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ریاست کوئنز لینڈ کے دارالحکومت برسبین میں کرونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ہفتے سے تین دن کا سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔

دوسری طرف آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی میں قائم ایک ہوٹل کے قرنطینہ مرکز میں جنوبی افریقہ سے آنے والے شخص میں نئی قسم وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

آسٹریلیا میں حکومت نے جمعے سے کرونا وائرس کی نئی قسم کے سبب بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی تعداد میں کمی کرتے ہوئے کرونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ کو لازمی قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا میں اب تک 28 ہزار سے زائد کرونا کیسز سامنے آئے ہیں۔ جب کہ اس وبا کی وجہ سے 900 اموات ہو چکی ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG