پاکستان میں 33 ہزار سے زائد افراد زیرِ علاج
پاکستان میں کرونا وائرس کے زیرِ علاج افراد کی تعداد میں کمی آنے لگی ہے اور مریضوں کی تعداد 33 ہزار 763 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید 2432 افراد متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 5 لاکھ 16 ہزار 770 ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ وبا سے اب تک 10 ہزار 908 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 4 لاکھ 72 ہزار 99 ہے۔
اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ملک بھر میں اب بھی 33 ہزار 763 افراد زیرِ علاج ہیں جن میں سے 2334 انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے تک ملک بھر میں زیرِ علاج افراد کی تعداد 34 ہزار سے زائد تھی البتہ اب اس میں بدستور معمولی کمی آنے لگی ہے۔
کرونا: چین میں سالِ نو پر چھٹیاں نہ کرنے والے ملازمین کو زیادہ تنخواہ و تحائف کی پیشکش
چین میں فروری میں نیا قمری سال شروع ہوتا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں طویل سالانہ تعطیلات منائی جاتی ہیں لیکن اس سال مقامی حکومتوں اور مختلف صنعتوں نے اپنے کارکنوں کو چھٹیوں سے روکنے کے لیے بہت سی مراعات کا اعلان کیا ہے۔
مراعات کا اعلان ماضی کے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
گزشتہ برس نئے سال کی تعطیلات کے دوران شہریوں کے سفر کرنے کی وجہ سے چین میں کرونا وائرس تیزی سے پھیلا تھا جس پر قابو پانے کے لیے حکومت کو لاک ڈاؤن نافذ کرنا پڑا۔
حکومتی پابندیوں کی وجہ سے بہت سے لوگ مختلف علاقوں میں پھنس گئے تھے اور جو واپس اپنے شہروں میں آنے میں کامیاب ہو گئے تھے وہ بھی 14 روز تک قرنطینہ میں رہے۔
فیکٹریوں میں کام کرنے والے ملازمین کے کام پر نہ پہنچنے کے باعث فیکٹریوں میں کام معمول سے کم رہا۔ صنعتی پیداوار میں کمی آئی اور مزدوروں کو کئی کئی ماہ تک بغیر آمدنی کے گزارا کرنا پڑا۔
کیا کرونا وائرس سے صحت یابی کے بعد بھی ویکسین لگوانی چاہیے؟
عالمی وبا کرونا وائرس کے حوالے سے یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ اگر کوئی وبا سے متاثر یا صحت یاب ہو چکا ہے۔ تو کیا ان افراد کو بھی وبا سے محفوظ رہنے کی ویکسین لگوانی چاہیے۔ طبی ماہرین اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہیں۔
ویکسین لگوانے کے حوالے سے امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' سے وابستہ متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر امیش ادلجا کہتے ہیں کہ یہ ایک سیدھا سا سوال ہے جس کا جواب ہے کہ ہاں، آپ کو ویکسی نیشن کی ضرورت ہے۔
اب تک کی طبی تحقیق کے مطابق اگر کوئی فرد کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد صحت مند ہو جاتا ہے۔ تو اس کا مدافعتی نظام اس قدر بہتر ہو جاتا ہے کہ اسے فوری طور پر وبا سے متاثر ہونے سے روکتا ہے۔
امریکہ کے 'سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن' (سی ڈی سی) کے مطابق لوگوں کو اپنی باری آنے پر ویکسی نیشن کرانے کی منصوبہ بندی کر لینی چاہیے۔
پاکستان میں تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان
پاکستان کے وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے ملک بھر کے گزشتہ ماہ سے بند تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
شفقت محمود نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ نویں سے بارہویں جماعت تک کے تعلیمی اداروں میں 18 جنوری سے تدریسی عمل بحال ہو جائے گا جب کہ پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کے تعلیمی ادارے یکم فروری سے کھلیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ تمام تر مشاورت کے بعد جامعات میں تدریسی عمل یکم فروری سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
شفقت محمود نے ملک میں کرونا وبا کی صورتِ حال اور اسکولوں میں تدریسی عمل سے متعلق ماضی کے فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پندرہ ستمبر کو اسکول کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ اُس وقت ملک میں انفیکشن ریٹ ایک اعشاریہ نو فی صد تھا اور یومیہ اموات پانچ اور یومیہ کیسز 600 تھے۔
اُن کے بقول 26 نومبر کو تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ ہوا تو مثبت کیسز کی شرح سات اعشاریہ ایک چار تک چلی گئی اور یومیہ اموات 47 اور کیسز تین ہزار رپورٹ ہونے لگے۔ جس کے بعد تعلیمی ادارے بند کیے گئے۔
شفقت محمود کہتے ہیں صحت کے ماہرین نے بتایا تھا کہ تعلیمی ادارے بند ہونے کا واضح اثر انفیکشن ریٹ پر پڑتا ہے۔ ان کے بقول موجودہ اعداد و شمار کے مطابق مثبت کیسز کی شرح سات اعشاریہ ایک چار سے کم ہو کر چھ اعشاریہ ایک پر آگئی ہے۔
وفاقی وزیرِ تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ تعلیمی ادارے بند ہونے سے بچوں کی تعلیم کو بہت نقصان ہوا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ہمیں صحت کا بھی خیال رکھنا ہے۔ دونوں چیزوں کو توازن میں رکھنے کے لیے ہم نے کم رسک کے ساتھ تعلیم کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔