نیوزی لینڈ: خاتون کرونا وائرس کا شکار کیسے ہوئیں؟ تحقیقات ہوں گی
نیوزی لینڈ میں تقریباً دو ماہ بعد اتوار کو کرونا وائرس کا ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق کرونا وائرس سے متاثر ہونے والی خاتون کی عمر 56 برس ہے اور انہوں نے حال ہی میں بیرونِ ملک سفر کیا تھا۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق نیوزی لینڈ میں کرونا وائرس سے متعلق وزیر کرس ہپکنز نے کہا ہے کہ متاثرہ خاتون 30 دسمبر کو نیوزی لینڈ پہنچی تھیں اور ان میں کرونا وائرس کی اس نئی قسم کی تصدیق ہوئی ہے جس کے کیسز ساؤتھ افریقہ میں سامنے آئے ہیں۔
کرس ہپکنز کے مطابق خاتون نیوزی لینڈ پہنچنے کے بعد دو ہفتے قرنطینہ میں بھی رہیں اور اس دوران ان کے دو ٹیسٹس ہوئے اور دونوں ہی منفی آئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کے علاوہ اور کسی شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
حکام کے مطابق خاتون کو وائرس لگنے کی ممکنہ وجہ قرنطینہ میں رہنے والا کوئی ایسا فرد ہو سکتا ہے جو حال ہی میں بیرونِ ملک سے لوٹا ہو۔ نیوزی لینڈ کے وزیرِ 'کرونا وائرس ریسپانس' نے کہا ہے کہ وہ تحقیقات کر رہے ہیں کہ اس خاتون تک وائرس کیسے پہنچا۔
خیال رہے کہ 50 لاکھ آبادی والے ملک نیوزی لینڈ میں اب تک کرونا وائرس کے صرف 1927 کیسز سامنے آئے ہیں۔
دنیا بھر میں کرونا کیس 10 کروڑ کے قریب، متاثرہ ممالک میں امریکہ سرِ فہرست
کرونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد 10 کروڑ کے قریب پہنچ گئی ہے جب کہ اس مہلک وبا سے دنیا بھر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔ امریکہ کیسز اور اموات کے لحاظ سے دنیا میں سرِفہرست ہے۔
امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں اب تک دو کروڑ پچاس لاکھ افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جب کہ چار لاکھ 17 ہزار اموات ہو چکی ہیں۔
امریکہ کے بعد بھارت میں کرونا وائرس کے ایک کروڑ 60 لاکھ کیس سامنے آئے ہیں جب کہ اس جنوبی ایشیائی ملک میں ایک لاکھ 53 ہزار اموات ہوئی ہیں۔
برازیل میں اس متعدی مرض نے 90 لاکھ افراد کو متاثر کیا ہے جب کہ جنوبی امریکہ کے اس ملک میں وائرس سے دو لاکھ 16 ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ادھر عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس گیبراسس نے کہا ہے کہ وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کے استعمال سے عالمی وبا پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اب تک 50 ممالک میں لوگوں کو ویکسین کی خوراک دی جا رہی ہے۔ لیکن ان ممالک میں دو کے علاوہ تمام ملک زیادہ اور درمیانی آمدنی والے ممالک ہیں۔
اس رجحان کے پیشِ نظر انہوں نے کہا کہ دنیا کو ایک عالمی خاندان کے طور پر مل جل کر کام کرنا ہو گا تاکہ ویکسین کو جلد از جلد اور مساوی طریقے سے تقسیم کیا جا سکے۔
ایرانی صدر کا چند ہفتوں میں ویکسی نیشن مہم شروع کرنے کا اعلان
مشرقِ وسطی میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا ویکسین لگائے جانے کا عمل اگلے چند ہفتوں میں شروع ہو جائے گا۔
اتوار کو اپنے خطاب میں حسن روحانی کا کہنا تھا کہ جب تک مقامی ویکسین دستیاب نہیں ہو جاتی، مغربی ویکسین ملک کی ضرورت ہیں۔ تاہم ایرانی صدر کی طرف سے مغربی ویکسین کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب ملک میں یومیہ کیسز کی تعداد گزشتہ سات ماہ کے دوران رپورٹ کیے جانے والے یومیہ کیسز کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔
خیال رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حکومت کو امریکہ اور برطانیہ سے کرونا ویکسین درآمد کرنے سے منع کیا تھا۔ جو کہ ان کے بقول دوسرے ممالک میں وبا پھیلانا چاہتے ہیں۔
اس انتباہ کے بعد حسن روحانی کا کہنا تھا کہ حکومت محفوظ مغربی ویکسین خریدے گی۔
خیال رہے کہ ایران اقوامِ متحدہ کے پروگرام 'کو ویکس' کا بھی حصہ ہے۔ جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ غریب اور ترقیِ پذیر ممالک کو کرونا ویکسین کی فراہمی یقینی بنائے۔
نیوزی لینڈ: دو ماہ بعد کرونا کیس رپورٹ
نیوزی لینڈ میں دو ماہ سے بھی زیادہ عرصے کے بعد ایک خاتون میں کرونا وائرس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد کمیونٹی کی سطح پر وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
نیوزی لینڈ حکام کا اتوار کو کہنا تھا کہ ایک 56 سالہ خاتون میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ جو کہ حال ہی میں یورپ سے واپس آئی تھیں۔
نیوزی لینڈ میں بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی طرح اس خاتون نے بھی قرنطینہ میں 14 روز گزارے اور رواں ماہ 13 جنوری کو انہیں گھر بھیجنے سے پہلے کیے جانے والے دو کرونا ٹیسٹ بھی منفی آئے۔ تاہم ان میں بعد میں علامات سامنے آئیں اور ان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا۔
حکام کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آیا ان خاتون میں اسی قرنطینہ میں رہنے والے کسی دوسرے مسافر سے وائرس منتقل ہوا ہے یا نہیں۔
خیال رہے کہ نیوزی لینڈ میں اب تک وائرس کی مقامی منتقلی پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا تھا۔
تاہم اس خاتون میں وائرس کی تصدیق کے بعد وائرس کی کمیونٹی کی سطح پر منتقلی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔