دنیا بھر میں کرونا کے مصدقہ کیس 10 کروڑ سے متجاوز
پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والے عالمگیر وبا کرونا سے متاثر ہونے والے مصدقہ کیسز کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ دنیا کے کئی ممالک میں اب بھی وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق دنیا کی 1.3 فی صد آبادی کے مصدقہ طور پر اس وبا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ وائرس کی نئی اقسام اس کے تیزی سے پھیلاؤ کا موجب بن رہی ہیں۔
نئے سال کے آغاز پر ہر 7.7 سیکنڈ کے بعد دنیا میں ایک شخص اس مہلک وائرس سے متاثر ہوا ہے جس کے بعد اس ماہ ہر روز اوسطً چھ لاکھ 68 ہزار سے زائد افراد اس وبا سے متاثر ہوتے رہے ہیں۔
دنیا بھر میں وبا سے مرنے والوں کی شرح 2.15 فی صد رہی ہے۔
امریکہ، بھارت، برازیل، برطانیہ، روس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں ہیں۔
یورپی یونین کی ویکسین بنانے والی کمپنیوں کو ذمہ داری ادا کرنے پر زور
یورپی یونین نے کرونا ویکسین بنانے والے اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ویکسین کی فراہمی کے حوالے سے معاہدوں کی پابندی کریں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے 'آسٹرا زینیکا' کی جانب سے ویکسین کی فراہمی میں تاخیر کی وضاحت نہ دینے پر بھر تنقید کی تھی۔
یورپین کمیشن کی صدر ارسلا ون نے سوئٹزر لینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے آن لائن اجلاس سے خطاب میں کہا کہ یورپ نے اربوں یوروز کی سرمایہ کاری کی تاکہ دنیا کی پہلی کرونا ویکسین بن سکے۔ اس کا مقصد دنیا کے لیے حقیقی طور پر اچھا کرنا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ان کمپنیوں کو لازمی طور پر اس ویکسین کی فراہمی ممکن بنانی چاہیے۔ اور ان کو اپنے فرائض کی ادائیگی کرنی چاہیے۔
یورپی یونین کے مطابق اس نے ویکسین کی تیاری اور اس کی فراہمی کے لیے دو ارب 70 کروڑ ڈالرز کی خطیر رقم فراہم کی تھی۔
کرونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف ویکسین کو مزید مؤثر بنانے کا کام شروع
امریکی سائنس دانوں نے کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کو برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں پائی جانے والی نئی اقسام کے خلاف مزید مؤثر بنانے کا کام شروع کر دیا ہے۔
اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے امریکہ کے متعدی امراض کے سب سے بڑے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے 'این بی سی' نیوز چینل کو بتایا کہ سائنس دان موجودہ ویکسین کو حالات کے مطابق زیادہ بہتر بنانے پر پہلے ہی سے کام کر رہے ہیں۔
دوا ساز کمپنی موڈرنا نے بھی کہا ہے کہ اگرچہ اس کی بنائی گئی ویکسین کرونا وائرس کی نئی دریافت ہونے والی اقسام کے خلاف مؤثر ہے۔ مگر وہ ایک ایسی ویکسین بنانے پر کام کر رہی ہے جسے وائرس کی نئی اقسام کے خلاف ایک بوسٹر کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
کمپنی کے چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر ٹال زیکس نے اخبار 'نیویارک ٹائمز' کو بتایا کہ موڈرنا ویکسین کو کرونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف مؤثر بنانے کا وقت سے پہلے تیار رہنے کا کام اسے انشورنس پالیسی سمجھ کر انجام دیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی، جو امریکہ کے الرجی اور متعدی امراض کے قومی ادارے کے سربراہ اور صدر جو بائیڈن کے میڈیکل مشیر ہیں، کہتے ہیں کہ اگرچہ اس سلسلے میں کوئی سرکاری ڈیٹا ابھی سامنے نہیں آیا لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ برطانیہ میں دریافت ہونے والا وائرس زیادہ خطرناک ہے۔
امریکہ کا جنوبی افریقہ سمیت متعدد ممالک پر سفری پابندیاں بحال کرنے کا فیصلہ
امریکہ کے صدر جو بائیڈن پیر سے برازیل، آئرلینڈ، برطانیہ اور دیگر 26 یورپی ملکوں سے آنے والے غیر ملکی شہریوں پر کرونا وائرس کی سفری پابندی باضابطہ طور پر بحال کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے حکام نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر اتوار کو بتایا ہے کہ جن ممالک پر کرونا کے سبب امریکہ کے لیے سفری پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں ان میں جنوبی افریقہ کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔
بائیڈن انتظامیہ کے اس اقدام کی وجہ کرونا وائرس کی نئی قسم کے پھیلاؤ کا طرہ بتائی جاتی ہے جو جنوبی افریقہ کے اندر اور باہر پھیل چکی ہے۔
بائیڈن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کے آخری دنوں کے اس حکم نامے کو منسوخ کر رہے ہیں جو آئندہ منگل تک سفری پابندیوں میں نرمی کا متقاضی ہے۔