رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

18:53 27.1.2021

دنیا بھر میں کرونا کے مصدقہ کیس 10 کروڑ سے متجاوز

پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والے عالمگیر وبا کرونا سے متاثر ہونے والے مصدقہ کیسز کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ دنیا کے کئی ممالک میں اب بھی وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق دنیا کی 1.3 فی صد آبادی کے مصدقہ طور پر اس وبا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ وائرس کی نئی اقسام اس کے تیزی سے پھیلاؤ کا موجب بن رہی ہیں۔

نئے سال کے آغاز پر ہر 7.7 سیکنڈ کے بعد دنیا میں ایک شخص اس مہلک وائرس سے متاثر ہوا ہے جس کے بعد اس ماہ ہر روز اوسطً چھ لاکھ 68 ہزار سے زائد افراد اس وبا سے متاثر ہوتے رہے ہیں۔

دنیا بھر میں وبا سے مرنے والوں کی شرح 2.15 فی صد رہی ہے۔

امریکہ، بھارت، برازیل، برطانیہ، روس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں ہیں۔

19:22 26.1.2021

یورپی یونین کی ویکسین بنانے والی کمپنیوں کو ذمہ داری ادا کرنے پر زور

یورپی یونین نے کرونا ویکسین بنانے والے اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ویکسین کی فراہمی کے حوالے سے معاہدوں کی پابندی کریں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے 'آسٹرا زینیکا' کی جانب سے ویکسین کی فراہمی میں تاخیر کی وضاحت نہ دینے پر بھر تنقید کی تھی۔

یورپین کمیشن کی صدر ارسلا ون نے سوئٹزر لینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے آن لائن اجلاس سے خطاب میں کہا کہ یورپ نے اربوں یوروز کی سرمایہ کاری کی تاکہ دنیا کی پہلی کرونا ویکسین بن سکے۔ اس کا مقصد دنیا کے لیے حقیقی طور پر اچھا کرنا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ان کمپنیوں کو لازمی طور پر اس ویکسین کی فراہمی ممکن بنانی چاہیے۔ اور ان کو اپنے فرائض کی ادائیگی کرنی چاہیے۔

یورپی یونین کے مطابق اس نے ویکسین کی تیاری اور اس کی فراہمی کے لیے دو ارب 70 کروڑ ڈالرز کی خطیر رقم فراہم کی تھی۔

19:06 26.1.2021

کرونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف ویکسین کو مزید مؤثر بنانے کا کام شروع

امریکی سائنس دانوں نے کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کو برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں پائی جانے والی نئی اقسام کے خلاف مزید مؤثر بنانے کا کام شروع کر دیا ہے۔

اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے امریکہ کے متعدی امراض کے سب سے بڑے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے 'این بی سی' نیوز چینل کو بتایا کہ سائنس دان موجودہ ویکسین کو حالات کے مطابق زیادہ بہتر بنانے پر پہلے ہی سے کام کر رہے ہیں۔

دوا ساز کمپنی موڈرنا نے بھی کہا ہے کہ اگرچہ اس کی بنائی گئی ویکسین کرونا وائرس کی نئی دریافت ہونے والی اقسام کے خلاف مؤثر ہے۔ مگر وہ ایک ایسی ویکسین بنانے پر کام کر رہی ہے جسے وائرس کی نئی اقسام کے خلاف ایک بوسٹر کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

کمپنی کے چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر ٹال زیکس نے اخبار 'نیویارک ٹائمز' کو بتایا کہ موڈرنا ویکسین کو کرونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف مؤثر بنانے کا وقت سے پہلے تیار رہنے کا کام اسے انشورنس پالیسی سمجھ کر انجام دیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر فاؤچی، جو امریکہ کے الرجی اور متعدی امراض کے قومی ادارے کے سربراہ اور صدر جو بائیڈن کے میڈیکل مشیر ہیں، کہتے ہیں کہ اگرچہ اس سلسلے میں کوئی سرکاری ڈیٹا ابھی سامنے نہیں آیا لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ برطانیہ میں دریافت ہونے والا وائرس زیادہ خطرناک ہے۔

مزید جانیے

19:03 26.1.2021

امریکہ کا جنوبی افریقہ سمیت متعدد ممالک پر سفری پابندیاں بحال کرنے کا فیصلہ

امریکہ کے صدر جو بائیڈن پیر سے برازیل، آئرلینڈ، برطانیہ اور دیگر 26 یورپی ملکوں سے آنے والے غیر ملکی شہریوں پر کرونا وائرس کی سفری پابندی باضابطہ طور پر بحال کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے حکام نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر اتوار کو بتایا ہے کہ جن ممالک پر کرونا کے سبب امریکہ کے لیے سفری پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں ان میں جنوبی افریقہ کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کے اس اقدام کی وجہ کرونا وائرس کی نئی قسم کے پھیلاؤ کا طرہ بتائی جاتی ہے جو جنوبی افریقہ کے اندر اور باہر پھیل چکی ہے۔

بائیڈن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کے آخری دنوں کے اس حکم نامے کو منسوخ کر رہے ہیں جو آئندہ منگل تک سفری پابندیوں میں نرمی کا متقاضی ہے۔

مزید جانیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG