اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار کون؟
پاکستان میں کرونا وبا کے دوران بے روزگاری کے ساتھ اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ خریدار تو پریشان ہیں ہی مگر پیداوار کے ذمہ دار افراد کا کہنا ہے کہ وہ بھی نقصان اٹھا رہے ہیں۔ طلب اور رسد متاثر ہونے سے مارکیٹ اور عوام پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟ جانیے نذر الاسلام کی رپورٹ میں۔
پاکستان میں ویکسی نیشن شروع
پاکستان میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسی نیشن کا آغاز ہو گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ 'سائنو فارم' نامی اس ویکسین کی پانچ لاکھ خوراکیں چین نے پاکستان کو تحفتاً دی ہیں۔ مزید تفصیلات دیکھیے اس ویڈیو میں۔
کیا دو ماسک کرونا سے زیادہ تحفظ دیتے ہیں؟
کیا دو ماسک پہن کر کرونا وائرس کے خلاف زیادہ تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے؟
ماہرین کا خیال ہے کہ ہر حالت میں تو ایسا نہیں ہوتا مگر کچھ حالات میں دو ماسک مفید ہوتے ہیں۔
امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کی جانب سے ایسا ماسک پہننے کی تجویز دی گئی ہے جس میں دو تہیں ہوں اور وہ منہ اور ناک کو ڈھانپ سکے۔ ایجنسی کی ہدایت ہے کہ یہ ماسک ایسے بنے ہوں کہ ناک کے دونوں جانب شگاف نہ ہو۔
بوسٹن یونی ورسٹی میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر ڈیوڈ کے مطابق اکثر حالات میں ایک ماسک پہننا ہی کافی ہو گا اگر وہ ڈھیلا نہ ہو۔
لیکن کچھ لوگ زیادہ تحفظ چاہتے ہیں جہاں وہ بند جگہوں پر زیادہ دیر کے لیے ہوں جیسے ہوائی جہاز کے سفر کے دوران۔ اس صورت میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والی وبائی امراض کی ماہر ڈاکٹر مونیکا گاندھی کہتی ہیں کہ ایک حل تو یہ ہے کہ کپڑے کے ماسک کے ساتھ ساتھ سرجیکل ماسک بھی پہن لیا جائے۔
کرونا کیسز میں تین ہفتوں سے مسلسل کمی کا رجحان
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ دنیا میں کرونا وائرس کے کیسز میں تین ہفتے سے مسلسل کمی ہوئی ہے لیکن ساتھ ہی ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اس مہلک وبا سے بچاؤ کی تدابیر پر عمل جاری رکھنے میں کوئی بھی کمی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس گیبریسس نے کہا ہے کہ اگرچہ کچھ ممالک میں کرونا وائرس پھیل رہا ہے۔ لیکن اس سے پیدا ہونے والے مرض کووڈ نائٹین کے کیسوں میں کمی ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تازہ ترین رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر لوگ سماجی فاصلوں کی پابندی کریں، چہروں پر ماسک لگائیں اور صفائی کا خیال رکھیں تو اس عالمی وبا پر قابو پایا جاسکتا ہے۔