کرونا ویکسین کے حصول کی عالمی دوڑ کے نقصانات
کرونا وائرس کی ویکسین حاصل کرنے کی عالمی دوڑ تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ امیر ممالک ویکسین کی خوراکوں پر جھپٹ رہے ہیں۔ اس ویکسین نیشنل ازم یعنی صرف اپنے ملک کی فکر سے ایسا مقابلہ جنم لے رہا ہے جس میں کم آمدن والے ملک شاید بہت پیچھے رہ جائیں۔ مگر اس سے فائدہ امیر ممالک کو شاید بہت زیادہ نہ ہو۔
امریکہ میں بے روزگاری کی سطح میں معمولی کمی
رواں سال کے پہلے ماہ مہینے کے دوران امریکہ میں روزگار کے صرف 49 ہزار نئے مواقع پیدا ہوئے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی معیشت کرونا وائرس کے آغاز کے تقریباً ایک سال بعد بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں نکل سکی ہے۔
دسمبر 2020 میں امریکہ میں دو لاکھ 27 ہزار افراد کو اپنے روزگار سے محروم ہونا پڑا تھا جو گزشتہ سال اپریل کے بعد ایک بڑا نقصان تھا۔
لیبر ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری میں ملک میں بے روزگاری کی سطح 6 اعشاریہ 7 فی صد سے گر کر 6 اعشاریہ 3 فی صد ہو گئی۔ اس کمی کی وجہ یہ ہے کہ بے روزگاری الاؤنس لینے والے کئی افراد کو ملازمتیں مل گئیں۔
امریکہ کے لیبر ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے ملک میں بے روزگاری الاؤنس کی درخواستوں میں کمی ہوئی ہے۔ تاہم ان کی شرح اب بھی تاریخی اعتبار سے بلند ہے، کیوں کہ عالمی وبا نے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان میں اموات کی تعداد 12 ہزار کے قریب
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ زیرِ علاج افراد کی تعداد 32 ہزار 514 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 1286 افراد وبا سے متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ 53 ہزار 128 ہو گئی ہے۔
متاثرہ افراد میں سے پانچ لاکھ آٹھ ہزار سات سو افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جب کہ 11 ہزار 914 اموات ہوئی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 32 ہزار 514 افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں جن میں سے 1908 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
پاکستان میں چین سے عطیہ کی گئی پانچ لاکھ ویکسین ڈوزز کی مدد سے ویکسی نیشن مہم بھی شروع کی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں طبی عملے کو ویکسین دی جا رہی ہے۔
چین میں چمگادڑوں کی غاروں کا کرونا وائرس سے کیا تعلق ہے؟
چین کی چمگادڑیں کرونا وائرس کے آغاز کا کھوج لگانے والے سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بن رہی ہیں۔ اور چین کے شہر ووہان کا دورہ کرنے والی عالمی ادارہ صحت کے سائنس دانوں اور ماہرین کی ٹیم کے ایک رکن نے کہا ہے کہ یہ بہتر طور پر سمجھنے کے لیے کہ کرونا وائرس کا آغاز کیسے ہوا، ہمیں چین میں چمگادڑوں کے غاروں کو دیکھنا چاہئے۔
کرونا وبا کے آغاز کے بعد کئی ماہرین نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کرونا وائرس چمگادڑ یا اسی طرح کے کسی جنگلی جانور سے انسانوں کو منتقل ہوا ہے۔
زوولوجسٹ اور جانوروں کی بیماریوں کے ماہر پیٹرک ڈائزک کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کا وفد کو جو ووہان میں موجود ہے ، عالمی وبا کے آغاز کے بارے میں نئی معلومات مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ وائرس چین کی لباریٹری میں بنایا گیا۔
کرونا وائرس کا آغاز کیسے ہوا؟ اس بارے میں مختلف نظریات اور خدشات پائے جاتے ہیں۔ کرونا کے ابتدائی مریض ووہاں کے اس علاقے میں سامنے آئے، جہاں زندہ جانور فروخت کرنے والی ایک مارکیٹ ہے۔ اس مارکیٹ میں جنگلی جانور بھی فروخت کیے جاتے ہیں، جو انسانی خوراک کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اسی مارکیٹ کے کسی جانور سے وائرس انسان کو منتقل ہوا ہو گا۔ تاہم ابھی اس بارے میں جامع تحقیق ہونا باقی ہے۔
ڈائزک اس سے پہلے ایک اور وائرس سارز کے آغاز پر تحقیق کر چکے ہیں جس کا آغاز چین کے ایک صوبے کی غاروں میں موجود چمگادڑوں سے ہوا تھا۔