کرونا وائرس کی تیزی سے پھیلتی نئی اقسام
کرونا وائرس کی نئی اقسام نے اس کے خلاف ویکسینز کی افادیت پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ برطانیہ میں سامنے آنے والی قسم اب تک 55 ممالک میں پائی گئی ہے جب کہ 23 ممالک میں جنوبی افریقی قسم کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ کرونا وائرس کی ان نئی خطرناک اقسام سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟ جانتے ہیں صبا شاہ خان سے۔
بھارت سے افغانستان ویکسین کی فراہمی
افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ پر ہیلتھ ورکر بھارت سے آئی کرونا ویکسین وصول کر رہے ہیں۔ بھارتی حکومت نے افغانستان کو کرونا وائرس ویکسین کی خوراکیں عطیہ کی ہیں۔
پاکستان میں اموات 12 ہزار سے متجاوز
پاکستان میں کرونا وائرس سے اموات کی تعداد 12 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان میں اموات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور وبا سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 12 ہزار 66 ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق فروری کے مہینے میں پاکستان میں 383 افراد وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں وبا کی دوسری لہر کا آغاز نومبر کے آغاز میں ہوا تھا جس کے ساتھ ہی اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا تھا۔ دسمبر کے آخر میں وبا سے اموات بلند سطح پر تھیں' البتہ جنوری میں اس میں کسی حد تک کمی آئی۔ جب کہ فروری میں بھی ہلاکتوں کی اوسط جنوری کے اعدادوشمار کے قریب ہے۔
کین سائنو کی ایک ڈوز والی ویکسین 74 فی صد مؤثر
وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ چین کی کمپنی 'کین سائنو بائیو' کی ایک ڈوز والی ویکسین کے پاکستان میں ہونے والے ٹرائلز کے اعداد و شمار سے واضح ہوا ہے کہ یہ 74.8 فی صد مؤثر ہے۔ جب کہ شدید متاثرہ مریضوں کے لیے یہ 100 فی صد کار آمد ہے۔
ٹوئٹر پر ایک بیان میں ڈاکٹر فیصل سلطان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیپینڈنٹ ڈیٹا مانیٹرنگ کمیٹی (آئی ڈی ایم سی) نے اس ویکسین کے کسی مضر یا منفی اثرات کے حوالے سے بھی رپورٹ نہیں کیا۔
ان کے مطابق ان ٹرائلز میں 30 ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا۔