بھارت 'دنیا کے سب سے بڑے ویکسینیشن پروگرام' کے لیے تیار
بھارت میں 16 جنوری سے کرونا وائرس کی ویکسینیشن کے پروگرام کا آغاز ہو رہا ہے۔ نئی دہلی کی حکومت اس پروگرام کو دنیا کی سب سے بڑی ویکسینیشن مہم قرار دے رہی ہے۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پہلے مرحلے میں 30 کروڑ افراد کو ٹیکے لگانے کی تیاری کی گئی ہے۔ توقع ہے کہ جولائی تک یہ کام مکمل ہو جائے گا۔
بھارتی حکومت پہلے ہی دو ویکسین کے ہنگامی اور محدود استعمال کی اجازت دے چکی ہے۔
دوا ساز کمپنی آکسفورڈ کی ویکسین 'کووی شیلڈ' جسے پونے میں واقع سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ایس آئی آئی) نے تیار کیا ہے، اسے ویکسینیشن مہم کے دوران عوام کو لگایا جائے گا۔
دوسری ویکسین 'کوویکسین' ہے جسے حیدرآباد میں واقع 'بھارت بائیو ٹیک' نے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔ یہ ویکسین مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کی گئی ہے۔
گزشتہ دنوں جب بھارتی حکومت نے 'کوویکسین' کے استعمال کی اجازت دی تھی تو بعض حلقوں کی جانب سے اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
کرونا بحران: پہلے سے گھر سے کام کرنے والوں پر کیا گزری؟
کرونا کی عالمی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کو اچانک گھروں سے کام کرنے کی عادت ڈالنا پڑی۔ مگر ان لوگوں پر کیا گزری جو پہلے ہی گھر سے کام کرتے تھے؟ دیکھیے ایک ایسے ہی والد کی کہانی اور جانیے کہ بچوں کی اسکول سے چھٹیوں کے دوران ان کا کام کیسے چل رہا ہے اور شب و روز کیسے گزر رہے ہیں؟
چین کی تیار کردہ کرونا ویکسین توقعات سے کم مؤثر ہونے کی نشان دہی
چین کی تیار کردہ ویکسین 'سائنووِک' کے بارے میں سامنے آیا ہے کہ یہ 50 فی صد ہی مؤثر ہے۔ قبل ازیں اس کے 78 فی صد کے قریب مؤثر ہونے کے اعداد و شمار پیش کیے گئے تھے۔
برازیل میں 'سائنووِک' کے آخری اسٹیج کے ٹرائلز میں سامنے آیا کہ یہ ویکسین 50.38 فی صد اثر پذیر ہے۔ ایک ہفتہ قبل جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مقابلے میں یہ 30 فی صد کم مؤثر ہونے کی نشان دہی ہوئی ہے۔
برازیل کے شہر ساؤپولو میں واقع تحقیقی ادارہ 'انسٹیٹیوٹو بوٹنٹن' ملک میں ویکسین کی تیاری اور اس کے ٹرائلز کا ذمہ دار ہے۔ اس انسٹیٹیوٹ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ 'سائنووِک' مجموعی طور پر 78 فی صد مؤثر ہے۔ جب شدید متاثرہ کیسز میں یہ مجموعی طور پر دفاع کی حامل ہے۔
اب نئے ٹرائلز میں 12 ہزار 508 رضا کاروں کو شامل کیا گیا ہے جس میں سامنے آیا کہ لوگوں کو شدید متاثر ہونے سے مدافعت میں اب بھی یہ 100 فی صد ہی مؤثر ہے۔
منگل کو ایک پریس کانفرنس میں 'انسٹیٹیوٹو بوٹنٹن' کے چیف ریسرچر ریکارڈو پلاشیئس کا 'سائنووِک' کے حوالے سے کہنا تھا کہ یہ ایک مؤثر ویکسین ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ایسی ویکسین موجود ہے جو کہ وبا کو اس کے ممکنہ اثرات سے روک سکتی ہے اور اس کے مضمرات کو بھی کم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔
کرونا بحران میں پاکستان کی ورکنگ ویمن کی مشکلات
کرونا وائرس کی وبا کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران سے دنیا بھر میں مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ پاکستان میں بھی کاروباری یا نوکری پیشہ خواتین کو ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ سدرہ ڈار کی رپورٹ میں ملیے کراچی کی کچھ خواتین سے جن پر معاشی بحران کا اثر تو پڑا لیکن ایک جیسا نہیں۔