پاکستان میں 'آسٹرازینیکا' ویکسین کے ایمرجنسی استعمال کی اجازت
حکومتِ پاکستان نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے آکسفرڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی 'آسٹرازینیکا' کی تیار کردہ ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت دے دی ہے۔
وزیرِ اعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا ہفتے کو ایک بیان میں کہنا تھا کہ 'آسٹرازینیکا' کے علاوہ چین کی تیار کردہ 'سائنو فارم' ویکسین کی 10 لاکھ سے زائد خوراکیں بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ویکسینز کے علاوہ دیگر ممالک کی تیار کردہ ویکسینز کے حصول پر بھی غور جاری ہے جب کہ عالمی ادارۂ صحت کے 'کوویکس' پروگرام کے ذریعے بھی ویکسین حاصل کی جائے گی۔
'آسٹرازینیکا' نے نومبر میں دعویٰ کیا تھا کہ اس کی تیارکردہ ویکسین وائرس سے بچاؤ کے لیے 90 فی صد تک مؤثر ہے۔
پاکستان میں اب تک کرونا کے پانچ لاکھ 19 ہزار سے زائد کیس جب کہ 10 ہزار 951 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔
آسٹریلیا: گرینڈ سلِم میں شریک 47 کھلاڑی قرنطینہ
آسٹریلیا میں ہونے والے سال کے پہلے گرینڈ سلِم ٹینس ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے بذریعہ خصوصی پرواز آنے والے 47 کھلاڑیوں کو میلبرن کے ایک ہوٹل میں دو ہفتوں کے لیے قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔
ٹورنامنٹ کے منتظمین کے مطابق خصوصی پرواز میں آنے والے مسافروں میں سے دو میں کرونا وائرس کی تشخیص کیے جانے کے بعد کھلاڑیوں کو قرنطینہ کیا گیا ہے۔
امریکہ کے شہر لاس اینجلس سے آنے والے دو درجن کھلاڑیوں کو اس وقت قرنطینہ کیا گیا۔ جب فضائی عملے کے ایک اہلکار اور آسٹریلین اوپن میں بطور مہمان شرکت کرنے والے مسافر کے وائرس سے متاثر ہونے کی تشخیص ہوئی۔
بعد ازاں ابوظہبی سے آنے والی پرواز کے ایک مسافر میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ جو کہ کھلاڑی نہیں ہے۔ تاہم اس پرواز پر آنے والے 23 کھلاڑیوں کو بھی ایک ہوٹل میں قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔
منتظمین کا مزید کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو ہوٹل کے کمروں سے 14 دنوں تک نکلنے کی اجازت نہیں ہو گی اور نہ ہی وہ اس دوران پریکٹس کر سکیں گے۔
ویکسین کی ترسیل میں تاخیر، کئی ممالک کا یورپی کمیشن کو خط
امریکہ کی کمپنی ‘فائزر’ کی تیار کردہ کرونا ویکسین کی کھیپ روانگی میں تاخیر کی وجہ سے یورپ کے چند ممالک میں ویکسی نیشن کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق یورپ کے ممالک سوئیڈن، ڈنمارک، فن لینڈ، لیتھوینیا، لیٹویا اور ایستونیا کے وزرائے صحت نے یورپین کمیشن کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ یہ صورتِ حال ناقابل برداشت ہے۔
خط میں وزرائے صحت کا مزید کہنا تھا کہ اس وجہ سے کرونا ویکسین لگانے کے پورے عمل کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
دوسری طرف 'فائزر' کا کہنا ہے کہ کرونا ویکسین کی رسد کا عمل تیز کرنے کے لیے کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں جس کی وجہ سے جنوری کے اختتام اور فروری کے اوائل کے درمیان ویکسین کی ترسیل عارضی طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی کمپنی 'فائزر' اور جرمن کمپنی ‘بائیو این ٹیک’ کی تیار کردہ کرونا ویکسین کی یورپی ملکوں میں ترسیل کا عمل پچھلے سال دسمبر میں شروع ہوا تھا۔ جب کہ امریکی کمپنی ‘موڈرنا’ کی تیار کردہ کرونا ویکسین کی ترسیل کا عمل رواں ہفتے شروع ہوا ہے۔
بھارت میں ویکسین لگانے کی مہم کا بڑے پیمانے پر آغاز
امریکہ کے بعد کرونا وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بھارت میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کرونا ویکسین لگانے کی مہم کا ہفتے کو باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
بھارت میں اس مہم کے دوران مقامی طور پر تیار کردہ دو ویکسینز لگائی جائیں گی۔
ابتدائی طور پر طبی عملے، ڈاکٹرز اور اس وبا کے خلاف کوشاں افراد کو ویکسین لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
ابھی تک وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بھی یہ ویکسین نہیں لگائی گئی۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے طبی عملے سے ویڈیو خطاب میں اس مہم کا آغاز کیا۔
امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق بھارت میں اب تک ایک کروڑ 5 لاکھ سے زائد افراد اس وبا سے متاثر اور ایک لاکھ 52 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔