نویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ کے لیے تدریسی عمل بحال
پاکستان میں نویں سے 12ویں جماعت تک کے تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں جہاں پیر سے ایک مرتبہ پھر تعلیمی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
کرونا وبا اور سردیوں کی چھٹیوں کے باعث کم و بیش دو ماہ تک پاکستان کے تعلیمی ادارے بند رہے اور اب اُنہیں مرحلہ وار کھولا جا رہا ہے۔
حکومتی اعلان کے مطابق پہلے مرحلے میں نویں سے بارہویں جماعت کے لیے تدریسی عمل بحال کیا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں پہلی سے آٹھویں جماعت اور جامعات میں یکم فروری سے تدریسی عمل شروع ہو گا۔
تعلیمی ادارے کھولنے کے لیے کرونا ایس او پیز پر عمل کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
کرونا بحران: رواں برس جون تک فضائی سفر کی 71 فی صد بحالی متوقع
کرونا بحران گزشتہ برس ہوائی سفر میں 60 فی صد کی ڈرامائی کمی کا باعث بنا اور سفر کی یہ شرح ایئر لائنز کی صنعت کے لیے 17 سال میں کم ترین سطح رہی۔
سول ایوی ایشن کی بین الاقوامی تنظیم نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش میں 50 فی صد کمی ہونے کے سبب سن 2020 میں ایک ارب اور اسی کروڑ افراد نے ہوائی سفر کیا جب کہ 2019 میں عالمی وبا کے پھوٹنے سے پہلے کل فضائی سفر کرنے والوں کی تعداد ساڑھے چار ارب تھی۔
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے (آئی سی اے او) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہوائی سفر میں اتنی بڑی کمی کی وجہ سے صنعت کو 370 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔
علاوہ ازیں ہوائی اڈوں کو 115 ارب ڈالرز اور نیوی گیشن کی خدمات انجام دینے والے سیکٹر کو 13 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا رہا۔
'ایپ' میں خرابی، بھارت میں ویکسی نیشن مہم متاثر
بھارت میں کرونا وبا سے بچاؤ کے لیے ہفتے کو شروع ہونے والی مہم تیکنیکی وجوہات کی بنیاد پر پہلے روز متاثر ہوتی رہی۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ویکسی نیشن مہم کو منظم کرنے کے لیے بھارت نے 'کو-ون' کے نام سے ایک 'ایپ' بنائی تھی جس میں پہلے روز تیکنیکی خرابی کے باعث ویکسی نیشن مہم بھی متاثر ہوئی۔
بھارت کے وزیرِ اعظم نے ہفتے کو اُن کے بقول دنیا کی سب سے بڑی ویکسی نیشن مہم کا افتتاح کیا تھا۔ بھارت میں امریکہ کے بعد کرونا کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
'کو-ون' نامی ایپ حکومت نے بنائی ہے اور اس کا مقصد اُن طبی ورکرز کا ڈیٹا مرتب کرنا ہے جنہیں پہلے مرحلے میں ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ اس 'ایپ' کے ذریعے حکومتی ادارے بھی اس سارے عمل کی براہ راست نگرانی کر سکتے ہیں۔
تاہم بہت سے طبی ورکرز جنہیں ہفتے کو ویکسین لگنی تھی اُنہیں مذکورہ 'ایپ' کی جانب سے کوئی پیغام موصول نہیں ہوا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کو 28 ہزار 500 افراد کو ویکسین لگائی جانا تھی۔ تاہم 'ایپ' میں خرابی کی وجہ سے ہفتے کو 18 ہزار سے زائد افراد کو ویکسین لگائی جا سکی۔
چین میں ایک ہی روز میں مزید 109 کیس رپورٹ
چین میں اتوار کو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 109 کیس رپورٹ ہونے کے بعد حکام کی تشویش بڑھ رہی ہے۔ زیادہ تر کیسز بیجنگ کے مضافاتی صوبے ہوبے میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
چین میں ہفتے کو کرونا کے 130 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ ملک میں حالیہ دنوں میں 10 ماہ بعد کیسز میں اضافے کا رُحجان دیکھا جا رہا ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حال ہی میں چین پہنچنے والی عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ٹیم ووہان میں قرنطینہ میں ہے۔ جہاں سب سے پہلے کرونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
ڈبلیو ایچ او کی ٹیم اس بات کا تعین کرے گی کہ وائرس کیسے پھیلا اور کیسے یہ ممکنہ طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔
چین نے گزشتہ 10 ماہ سے وبا کو کافی حد تک کنٹرول کر لیا تھا۔ تاہم حالیہ دنوں میں کیسز بڑھنے پر حکام کی تشویش بڑھ رہی ہے۔